تاریخ اشاعت: November 6, 2026 - 2:01 PM
Record of More Than 1 Million Acres in Thal Under NAB Investigation
تھل کی 10 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کا ریکارڈ زیرِ تفتیش، 5 اضلاع میں 5 لاکھ 52 ہزار ایکڑ کا فرق سامنے آگیا
▫️ نیب کے مطابق سرکاری نوٹیفکیشنز، بورڈ آف ریونیو اور ضلعی ریکارڈ میں زمین کے رقبے سے متعلق نمایاں فرق؛ مبینہ جعلی دعووں اور غیر قانونی انتقالات کی بھی چھان بین
پنجاب کے تھل خطے کی ترقی اور آبادکاری کے لیے حاصل کی گئی 10 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کا ریکارڈ قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات کی زد میں ہے۔
More than one million acres acquired for the development and settlement of Punjab’s Thal region have come under investigation by the National Accountability Bureau (NAB). A comparison of official land acquisition notifications and revenue records has revealed a discrepancy of 552,602 acres across five districts: Layyah, Kot Addu, Bhakkar, Mianwali and Khushab.
According to media reports, land acquisition notifications show that 1,016,007 acres were acquired for the Thal Development Authority (TDA). The Board of Revenue’s records list 507,688 acres, while deputy commissioners’ records collectively show 463,405 acres. The difference between the notified area and the district records amounts to 552,602 acres. A report published in September also cited a discrepancy of around 552,000 acres in the NAB inquiry, although its figures for the total area differed slightly.
The investigation covers alleged illegal adjustments of state land, questionable claims to the right of return, possible manipulation of records and transfers of land to private claimants or government departments. According to reports, complete records for three revenue estates in Kot Addu are unavailable, while records for five estates in Bhakkar are also reportedly missing. In Layyah, acquisition notifications list 566,360 acres, but the area shown in various revenue entries does not match that figure.
Investigators are also examining alleged land adjustments made through forged files and transfers based on purported “RL-II” claims. Details published in September alleged that around 23,000 acres had been adjusted through fake “Nathi Bai” files. Of that area, 5,000 acres were reportedly transferred back to the TDA in government records. The same report said 6,100 acres had been transferred on the basis of alleged fake RL-II claims, which the Board of Revenue had declared bogus.
A recent report, citing NAB records, said more than 22,500 acres had been resumed or transferred to the government in three districts, with an estimated value of around Rs 95 billion. Earlier, on September 25, NAB Multan and the district administration restored 3,831 acres in Kot Addu to the TDA, with an estimated value of about Rs 8 billion. The related land mutations were cancelled. NAB said the process was carried out with care to protect the rights of lawful owners and genuine claimants.
The Thal Development Act, 1949 empowers the authority to frame development schemes and acquire land in accordance with the law. It also provides a process for objections to proposed acquisitions. NAB and revenue officials are now reviewing records relating to the historical acquisition of land, right-of-return claims and subsequent transfers.
پنجاب کے تھل خطے کی ترقی اور آبادکاری کے لیے حاصل کی گئی 10 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کا ریکارڈ قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات کی زد میں ہے۔ سرکاری حصولِ اراضی کے نوٹیفکیشنز اور ریونیو ریکارڈ کے تقابل میں لیہ، کوٹ ادو، بھکر، میانوالی اور خوشاب کے پانچ اضلاع میں 5 لاکھ 52 ہزار 602 ایکڑ کا فرق سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حصولِ اراضی کے نوٹیفکیشنز میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے) کے لیے مجموعی طور پر 10 لاکھ 16 ہزار 7 ایکڑ زمین ظاہر کی گئی، جبکہ بورڈ آف ریونیو کے ریکارڈ میں 5 لاکھ 7 ہزار 688 ایکڑ اور ڈپٹی کمشنروں کے ریکارڈ میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 63 ہزار 405 ایکڑ درج ہے۔ نوٹیفکیشنز اور ضلعی ریکارڈ کے درمیان یہی فرق 5 لاکھ 52 ہزار 602 ایکڑ بنتا ہے۔
ستمبر میں شائع ہونے والی ایک سابقہ رپورٹ میں بھی نیب کی تحقیقات کے حوالے سے تقریباً 5 لاکھ 52 ہزار ایکڑ کا فرق بتایا گیا تھا، اگرچہ اس میں مجموعی رقبے کے اعداد معمولی طور پر مختلف تھے۔
نیب کی تحقیقات میں سرکاری زمین کی مبینہ غیر قانونی ایڈجسٹمنٹ، واپسی کے حق سے متعلق مشتبہ دعووں، ریکارڈ میں ممکنہ ردوبدل اور نجی دعوے داروں یا سرکاری محکموں کے نام زمین منتقل کیے جانے کے معاملات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کوٹ ادو کے تین موضع جات کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں، جبکہ بھکر کے پانچ مواضع کا ریکارڈ بھی غائب بتایا گیا ہے۔ لیہ میں حصولِ اراضی کے نوٹیفکیشنز میں 5 لاکھ 66 ہزار 360 ایکڑ درج ہیں، لیکن مختلف ریونیو اندراجات میں رقبے کی تفصیل اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر جعلی فائلوں کے ذریعے زمین ایڈجسٹ کرانے اور فرضی ’’آر ایل ٹو‘‘ دعووں کی بنیاد پر انتقالات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ ستمبر میں شائع شدہ تفصیلات میں تقریباً 23 ہزار ایکڑ زمین کے جعلی ’’ناتھ بی‘‘ فائلوں کے ذریعے ایڈجسٹ کیے جانے کا الزام سامنے آیا تھا، ان میں سے 5 ہزار ایکڑ سرکاری ریکارڈ میں ٹی ڈی اے کے نام واپس منتقل کیے جانے کا ذکر کیا گیا تھا۔ اسی رپورٹ کے مطابق 6 ہزار 100 ایکڑ کے انتقالات مبینہ جعلی آر ایل ٹو دعووں پر ہوئے تھے، جنہیں بورڈ آف ریونیو نے جعلی قرار دیا تھا۔
تازہ رپورٹ میں نیب ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تین اضلاع میں 22 ہزار 500 ایکڑ سے زائد اراضی سرکار کے نام واپس یا منتقل کی جاچکی ہے، جس کی مالیت تقریباً 95 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ اس سے پہلے 25 ستمبر کو نیب ملتان اور ضلعی انتظامیہ نے کوٹ ادو میں 3 ہزار 831 ایکڑ زمین ٹی ڈی اے کو واپس دلائی تھی، جس کی مالیت تقریباً 8 ارب روپے بتائی گئی۔ اس کارروائی میں متعلقہ انتقالات منسوخ کیے گئے تھے۔ نیب نے کہا تھا کہ قانونی مالکان اور جائز دعوے داروں کے حقوق متاثر ہونے سے بچانے کا خیال رکھا گیا۔
تھل ڈویلپمنٹ ایکٹ 1949 اتھارٹی کو علاقے کی ترقی کے لیے سکیمیں بنانے اور قانون کے تحت زمین کے حصول کا اختیار دیتا ہے۔ قانون میں مجوزہ حصول پر اعتراض کا طریقہ بھی موجود ہے۔ اسی تاریخی اراضی کے حصول، حقِ واپسی اور بعد کے انتقالات سے متعلق ریکارڈ کی چھان بین اب نیب اور متعلقہ ریونیو حکام کررہے ہیں۔