Home
Image
24 اگست کو سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں طلبہ اور دفاعی ادارے کے ایک سینئر افسر کے درمیان ہونے والے تصادم نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا یونیورسٹی کا یہ کیمپس HEC کی فہرست میں باقاعدہ منظور شدہ ہے؟
 
سید شایان کا کالم ۔ زمینی حقائق
 
اسلام آباد کے نواح میں واقع سرحد یونیورسٹی کے روات کیمپس میں 24 اگست کو پیش آنے والا واقعہ محض طلبہ اور ایک فوجی افسر کے درمیان ہاتھا پائی اور تصادم کا معاملہ نہیں۔ اس واقعے نے کیمپس کی قانونی حیثیت اور وہاں زیرِ تعلیم طلبہ کے مستقبل کے بارے میں بھی سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
 
فوجی افسر کے خلاف تو کارروائی شروع ہوگئی، لیکن کیا یونیورسٹی انتظامیہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے بھی پوچھا جائے گا کہ ایک ایسے کیمپس میں، جس کی مکمل اور پروگرام وار منظوری واضح نہیں، داخلے کس بنیاد پر کیے گئے اور آخر یہ حالات پیدا ہی کیوں ہوئے؟
 
جس مقام کو یونیورسٹی آج اپنا باقاعدہ اسلام آباد کیمپس قرار دے رہی ہے اور اپنی ویب سائٹ پر وہاں تقریباً 19 ڈگری پروگرام پیش کررہی ہے، کیا ہائر ایجوکیشن کمیشن نے واقعی اسے باقاعدہ کیمپس قائم کرنے، بالمشافہ تعلیم دینے اور ان تمام پروگراموں میں داخلے کرنے کی اجازت دی ہے؟
 
میری معلومات کے مطابق HEC نے اسلام آباد میں سرحد یونیورسٹی کو منظور شدہ Distance Education Centres کے ذریعے آرٹس، ہیومینیٹیز، سوشل سائنسز، ایجوکیشن، بزنس اور کامرس کے مخصوص پروگراموں میں Distance Education کی اجازت دی تھی۔
 
روات میں باقاعدہ Regular Education Campus قائم کرنے اور وہاں موجود تمام پروگرام چلانے کی مکمل اور واضح HEC منظوری دستیاب سرکاری ریکارڈ سے ہمارے سامنے نہیں آئی۔
 
سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے چارٹر کے تحت قائم سرحد یونیورسٹی کا روات مرکز، جس کے لیے دستیاب ریکارڈ میں Distance Education اور Student Support Center کی اجازت دکھائی دیتی ہے، باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس کیسے بن گیا؟
 
‏HEC نے اسے باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس بنانے کی اجازت کب، کس NOC کے تحت اور کن پروگراموں کے لیے دی؟ کیا BS Nursing، Pharm D اور وہاں پیش کیے جانے والے باقی تمام پروگرام بھی اس اجازت میں شامل ہیں؟
 
روات میں باقاعدہ یونیورسٹی کی طرح کلاسیں لگانے، مختلف پروگراموں میں داخلے کرنے اور طلبہ سے فیسیں لینے کی مکمل اجازت کا واضح سرکاری ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ اگر سرحد یونیورسٹی کے پاس اسلام آباد کیمپس کی مکمل منظوری موجود ہے تو اس کا اصل خط، NOC کی مدت اور منظور شدہ پروگراموں کی فہرست عوام کے سامنے رکھ دی جائے۔
 
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ سرحد یونیورسٹی HEC سے تسلیم شدہ ہے، کیونکہ پشاور میں قائم مرکزی یونیورسٹی کی منظوری خود بخود روات میں پیش کیے جانے والے تمام پروگراموں پر لاگو نہیں ہوتی۔
 
پڑھنے والوں کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس اور Distance Education کے طلبہ کی مدد کے لیے قائم Student Support Center میں کیا فرق ہوتا ہے۔
 
باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ روزانہ آتے ہیں، استاد سامنے بیٹھ کر پڑھاتے ہیں اور باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس Student Support Center مکمل یونیورسٹی کیمپس نہیں ہوتا۔ یہ Distance Education میں داخل طلبہ کی مدد کے لیے قائم کیا جاتا ہے، جہاں انہیں کتابیں، رہنمائی اور دوسری تعلیمی سہولتیں دی جاسکتی ہیں۔
 
ضرورت کے مطابق کلاس یا امتحان بھی ہوسکتا ہے، لیکن صرف کلاسیں لگنے، امتحان ہونے یا عمارت پر یونیورسٹی کا بورڈ لگ جانے سے یہ باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس نہیں بن جاتا۔ اس کے لیے HEC کی الگ اور واضح منظوری ضروری ہوتی ہے۔
 
اس لیے عام طالب علم کو داخلہ لینے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ متعلقہ جگہ کو HEC کی جانب سے باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس کی اجازت حاصل ہے اور طالب علم جس پروگرام میں داخلہ لے رہا ہے، اسے بھی اسی مقام پر پڑھانے کی باقاعدہ منظوری موجود ہے۔
 
‏HEC کی موجودہ سرکاری فہرست میں “اسلام آباد، روات” کا نام ضرور موجود ہے، لیکن اسے کیمپس اور Student Support Centers کے ایک ہی اندراج میں دکھایا گیا ہے۔ اسی اندراج کے نیچے لکھا ہے کہ اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے منظور شدہ Student Support Centers میں صرف Distance Education کے تحت آرٹس، ہیومینیٹیز، سوشل سائنسز، ایجوکیشن، بزنس اور کامرس کے مخصوص پروگراموں میں داخلوں کی اجازت ہے۔
 
یہی اصل ابہام ہے۔
 
اگر اسلام آباد، روات باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس ہے تو اسے صاف الفاظ میں اسی حیثیت سے کیوں نہیں لکھا گیا؟ اور اگر یہ Student Support Center ہے تو وہاں Pharm D، BS Nursing، DPT، کمپیوٹر سائنس اور صحت سے متعلق دوسرے پروگرام کس اجازت کے تحت چلائے جارہے ہیں؟
 
‏HEC کی مبہم فہرست دیکھ کر عام طالب علم اور والدین یہ سمجھ سکتے ہیں کہ روات ایک مکمل منظور شدہ یونیورسٹی کیمپس ہے۔ اسی بنیاد پر وہ داخلہ لیتے اور فیس جمع کراتے ہیں، جبکہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کیمپس کی منظوری اور وہاں چلنے والے ہر پروگرام کی اجازت الگ الگ دیکھی جانی چاہیے۔
 
‏HEC کو فوری طور پر دو ٹوک انداز میں بتانا چاہیے کہ اسلام آباد، روات باقاعدہ یونیورسٹی کیمپس ہے، Distance Education کا مرکز ہے یا کوئی اور انتظام۔ وہاں کون سے پروگرام منظور شدہ ہیں، انہیں کس طریقے سے چلانے کی اجازت ہے اور داخلہ لینے والے طلبہ کی ڈگریوں کی حیثیت کیا ہوگی؟
 
جب تک یہ تفصیلات سامنے نہیں آتیں، HEC کے آن لائن ریکارڈ کی شفافیت اور اس کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات برقرار رہیں گے۔
 
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ سرحد یونیورسٹی کے مراکز کی حیثیت پر سوال اٹھا ہو۔ جون 2019 میں HEC نے اس کے تمام Distance Education Centres میں داخلوں پر باقاعدہ پابندی لگا کر یونیورسٹی کو صرف پشاور کے منظور شدہ مرکزی کیمپس تک محدود رہنے کی ہدایت کی تھی۔ طلبہ کو خبردار کیا گیا تھا کہ پابندی کے بعد ان مراکز میں داخلہ لینے والوں کی ڈگریاں تسلیم نہیں کی جائیں گی۔
 
اسی پس منظر میں سرحد یونیورسٹی مردان اور راس الخیمہ کے کیمپسز کا معاملہ بھی وضاحت طلب ہے۔ دونوں آج بھی HEC کی Recognised فہرست میں موجود ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ “Admissions Discontinued” بھی لکھا گیا ہے۔
 
یہاں HEC کو اصل حکم نامہ سامنے رکھ کر واضح کرنا چاہیے کہ مردان اور راس الخیمہ کیمپسز میں داخلے کیوں اور کس کے حکم سے بند ہوئے، اور ان کی منظوری اب برقرار ہے یا منسوخ ہوچکی ہے۔
 
جب تک HEC اپنے آن لائن ریکارڈ میں شفافیت نہیں لاتا اور یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلبی نہیں کرتا، تب تک طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا رہے گا اور ریگولیٹر کی ساکھ پر سوالات قائم رہیں گے۔
 
24 اگست کو اسلام آباد میں طلبہ اور پاک فوج کے ایک سینئر افسر کے درمیان پیش آنے والے تصادم کا پس منظر دیکھا جائے تو دستیاب معلومات کے مطابق طلبہ فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ کیمپس انتظامیہ صورتِ حال سنبھالنے میں ناکام رہی اور معاملہ کلاس روم سے نکل کر ایک ناخوشگوار تصادم تک جا پہنچا، جس سے ایک قومی ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔
 
اس واقعے کو محض طلبہ اور فوجی افسر کے درمیان اتفاقی جھگڑا سمجھ کر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اصل جواب دہی یونیورسٹی انتظامیہ اور HEC کی بنتی ہے۔
 
اعلیٰ حکام کو دونوں سے پوچھنا چاہیے کہ جس کیمپس کی مکمل منظوری واضح نہیں، وہاں داخلے اور کلاسیں کس بنیاد پر جاری رہیں، فیسوں میں اضافہ کیسے ہوتا رہا اور معاملہ اس حد تک پہنچنے سے پہلے بروقت مداخلت کیوں نہیں کی گئی؟
 
یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا جواب سامنے آئے بغیر اس واقعے کی اصل ذمہ داری کا تعین نہیں ہوسکتا۔
0
Views
30
1

مزید زمینی حقائق

Image

Image

Image

Image

Image